21 اپریل 2012 - 19:30

بحرين ميں عوامي احتجاج ميں شدت کو ديکھتے ہوئے ملک کے ڈکٹيٹر حمد بن عيسي آل خليفہ نے ايک بيان ميں دعوي کيا ہے کہ وہ خود کو ملک ميں اصلاحات لانے کا پابند سمجھتے ہیں۔

ابنا: شيخ حمد بن عيسي آل خليفہ نے اتوار کو جاري ہونے والے اپنے بيان ميں دعوي کيا کہ قومي آشتي اور اصلاحات کے لئے وہ پرعزم ہيں اور عوام کے لئے مذاکرات کے دروازے کھلے ہوئے ہيں۔ يہ بيان ايسے وقت جاري کيا گيا ہے کہ جب   اپوزيشن نے ملک ميں  فارمولا ون کار ريس کے موقعے پر مظاہرين پر سيکورٹي فورس کے حملے ميں ايک شخص کے جاں بحق ہونے کي اطلاع دي ہے۔

الوفاق پارٹي نے اعلان کيا ہے کہ  سنيچر کو شکورا نامي علاقے ميں مظاہرين پر سيکورٹي فورس کے وحشيانہ حملوں اور مظاہرين کو زد و کوب کئے جانے کے بعد صالح عباس حبيب کي لاش ملي۔

دوسري طرف انساني حقوق کي تنظيم کے سربراہ محمد المسقطي نے کہا کہ آل خليفہ حکومت عوامي تحريک کو کچلنے کے لئے اپوزيشن رہنماؤں کو نشانہ بنا رہي ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل خليفہ حکومت بڑي تعداد ميں سياسي کارکنوں کو گرفتار کر رہي ہے اور اپوزيشن رہنماؤں کو نشانہ بنايا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزيد بتايا کہ مظاہرين اور انساني حقوق کے کارکن ملک ميں فارمولا ون ريس کے لئے آنے والے بين الاقوامي ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کي موجودگي سے فائدہ اٹھاتے  ہوئے دنيا کو  آل خليفہ کے جرائم سے باخبر کرنے کي کوشش کررہے ہيں۔.......

/169